بنگلورو،15؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاستی کانگریس میں جارکی ہولی برادران اور ڈی کے شیوکمار کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بحران کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے ریاستی کابینہ میں توسیع ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔
بتایاجاتاہے کہ ریاستی جنتادل (ایس) اور کانگریس کی مرکزی قیادت نے طے کیا ہے کہ فی الوقت ریاستی کابینہ میں توسیع کرکے ایسی صورتحال کو دعوت نہیں دی جائے گی کہ لوک سبھا انتخابات میں دونوں پارٹیوں کے امکانات متاثر ہوسکیں۔ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ کابینہ میں توسیع کے ساتھ سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقررات کو بھی پس پشت ڈال دیا جائے۔
معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جارکی ہولی برادران کی طرف سے ڈی کے شیوکمار سے اختلافات کی آڑ میں وزارت کی توسیع کے مرحلے میں اپنی بات منوانے کی کوشش اور دوسر ی طرف ڈی کے شیوکمار کی طرف سے اپنے اقرباء کو وزارت کا حصہ بنانے کے لئے جاری جدوجہد کو دیکھتے ہوئے فی الوقت کابینہ میں توسیع کو موخر کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ پہلے قیاس کیا جارہاتھا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے لوک سبھا انتخابات دسمبر کے دوران کروائے جاسکتے ہیں، لیکن اب لوک سبھا انتخابات کے بروقت یعنی اپریل یا مئی 2019 تک ہونے کے آثار کو دیکھتے ہوئے کابینہ میں توسیع کے لئے عجلت نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اب تک کہا جارہاتھا کہ بلدی انتخابات کے فوراً بعد کابینہ میں توسیع کردی جائے گی، لیکن بلگام کے سیاسی بحران کو دیکھتے ہوئے ریاستی کابینہ میں توسیع حکومت کے لئے ایک نئی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے، ان خدشات کو دیکھتے ہوئے کابینہ میں توسیع کے مرحلے کو بے مدت ملتوی کردیا گیا ہے۔
کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ نے کابینہ میں توسیع کو ملتوی کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ پارلیمانی انتخابات میں ابھی کافی وقت ہے ، اسی لئے وزارت میں توسیع کے مرحلے کو اطمینان سے انجام دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقررات کو بھی عجلت میں نہیں کئے جائیں گے۔ سابق وزیراعلیٰ اور حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا فی الوقت اپنے خاندان کے ساتھ دورۂ یوروپ پر گئے ہوئے ہیں۔ 16ستمبر کو ان کی واپسی کے بعد اس سلسلے میں موقف کھل کر سامنے آسکتاہے۔سدرامیا اپنی روانگی سے قبل کہاتھاکہ ان کی واپسی کے فوراً بعد کابینہ میں توسیع کو انجام دیا جائے گا۔ دیکھنا ہے کہ آنے کے بعد وہ اعلیٰ کمان کو کس طرح اس بات کے لئے راضی کرائیں گے کہ ریاستی کابینہ میں توسیع کی جائے۔